کل میں گوگل پر سرچ کرتے کرتے ایک ایسی ویب سائٹ پر جا پونہچا جس پر بھائی لوگوں کا قبضہ تھا. میں یہ ویب سائٹ دیکھ کر کافی حیران ھوا کہ آرکٹ اور فیس بک کی کافی نہ تھیں کہ یہ ایک اور قبضے میں لے لی؟؟؟؟؟؟؟ ویسے تو عمران خان کی ویب سائٹ پر بھی آپ ہی کا قبضہ ہے. تا ہم سوچا کہ گھوم پھر کر دیکھ ہی لوں.زندگی کا کیا پتا!
ویب سائٹ پر ہر بھائی کی اپنی اپنی بیوی کی طرح اپنی اپنی پروفایل تھی. بھائی لوگوں کی پروفایل پکچرز پر گھوڑوں اور جہازوں کی تصویریں تھیں، جن پر انہوں نے متحدہ کے جھنڈے گاڑے ہوے تھے. انقلاب انقلاب کے نعروں والے پرچم علیحدہ تھے. یہ گھوڑے ایک پروفایل سے بھاگتے ہوے دوسری پروفایل پر جا رہے تھے. وہاں گھڑ سوار گھوڑوں سے اتر کر علاقے کے بگڑتے ہوے حالات پر بحث کر رہے تھے. طرح طرح کے تبصرے ہو رہے تھے. جنہیں سن سن کر ہم کانپ ہی رہے تھے کہ اچانک ایک طرف سے آواز آئ:
"کراچی کے حالاات خراب کرنے والے اور اس کے ذمہ دار ذولفقار مرزا اور اسکی سرپرستی میں کام کرنے والی لینذ مافیہ ، ڈرگ مافیہ ، منشیات فروش اور دہشت گرد طالبان ہیں۔۔۔ "
پیر لندن کا یہ فتویٰ سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ہم نے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی. کیوں کہ ہم کل ہی موصوف کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر دیکھ رہے تھے جس میں پیر صاحب کچھ لوگوں سے بوریوں کا سائز مانگ رہے تھے. ویسے بھی ہمیں پتا ہے کہ آج کل کراچی میں دہشت گردی عام ہے اور ہم دھشت گردوں کی لسٹ میں بھی شامل ہو سکتے ہیں. اور ابھی تو *سائٹ* پر ہمارے قدموں کے نشان بھی موجود ہیں. اگر ابھی کوئی یہاں آ نکلا تو ..........
یہ بھی شکر ہے کہ وہاں ویب سائٹ کی ٹریفک چیک کرنے کا کوئی انتظام نہ تھا. ورنہ جان نہ بھی جاتی تو کوئی بھائی ایزی لوڈ کے ذریے بھتہ تو مانگ ہی سکتا تھا. تاہم شکر ہے کہ جان بچ گئی. کیا کہتے ہیں جی کہ جان ہی تو جہاں ہے.
یہ ہمارا بھائی لوگوں سے دوسرا ٹکراؤ تھا، پہلا آرکٹ پر ھوا تھا، مگر یہاں کے اور آرکٹ کے بھائیوں میں کافی فرق دیکھا ہے . آرکٹ والے بھائیوں نے تو اپنی پروفایل پر جدید ترین اسلحے کی تصویروں کے انبار لگا رکھے تھے. جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ *کام* کے وقت اکثر اسلحے سے شغل فرماتے ہیں. اس کے علاوہ آرکٹ پر عجیب و غریب گفتگو سننے کو ملتی تھی جو بھائی لوگ آپس میں کر رہے ہوتے تھے.
ہاں ایک بات تو آپ لوگوں کو بتانا بھول ہی گیا! کہ آتے وقت میں وہاں سے پیر صاحب کی ایک عدد تصویر بطور تبرک اٹھا لایا تھا. لیجئے آپ بھی ملاحظہ فرمایں.
اگر آپ بھی اپنی زندگی میں کبھی کسی بھائی یا بہن سے مل چکے ہیں یا آپ کی پاس ان کا دیا ھوا کوئی تحفہ، تمغہ یا میڈل موجود ہے تو ہمیں اس کی تصویر ضرور ارسال کریں. ہم آپ کی کہانی با تصویر پبلش کریں گے.. شکریہ
نوٹ: حساس جگہوں پر لگے ہوے میڈل والی تصویریں پبلش نہیں ہوں گی
بھائی لوگوں کے کارنامے جاننے کے لیے ہمارا بلاگ پڑھتے رہیے گا



ماشا الله! آپ تو خواہ مخواہ گھبراتے تھے. آپکی اردو لکھنے کی صلاحیت کسی سے کم نہیں.
ReplyDeleteمیں نے ایم کیو ایم سے تین میڈل لئے ہیں سر پہ . مگر مشکل یہ ہے کہ انکی تصویر کشی سر کے بالوں کی وجہ سے مشکل ہے. لیکن لگتا ہے کہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں. جس رفتار سے میں فارغ البال ہوتا جا رہا ہوں کچھ بعید نہیں کہ اگلے ٢-٣ سالوں میں تصویر فراہم کرنے کے قابل ہو جاؤں .
A trash from a sick mind. I and many others do not believe in political point scoring. All political leaders are stinking with their crimes committed. No exception.
ReplyDelete@Dr Jawad thanks....it is my first attempt of this type...
ReplyDelete@Anonymous so u think whole Pakistani and international is sick minded coz most of time focus of their stories are very same politicians.....All of them are sick minded and their productions are trash???????
I hope you don't watch TV too...coz it also contains a lot of trash....
are you jamatey??????
ReplyDelete@Amin.....Which Jamat you are talking abt.....there is a jamat called jamaat e Ahmadiyya is also present in Pakistan...
ReplyDeletesee more abt them here:
http://www.alhafeez.org/rashid/
If you are talking abt Jamaat e Islami then I am a fan of Syed Mawdudi (although I do NOT agree with him on everything).He was very sincere to Islam and Pakistan and had great understanding of Islam. I have read a lot of books of him and I strongly believe that his books written a long time ago can still prove to be a bulwark against growing wave of liberal extremism (if children are inoculated at school age. But modern day Jamaat is not that was a vision of Syed Mawdudi.
یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو الطاف حسین بہت پسند ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ ایک بار اسے سننے کے بعد پھر کبھی ادھر کا رخ نہ کرتے
ReplyDelete@افتخار اجمل بھوپال
ReplyDeleteyes I love animals....
کاش کہ ہم اپنے راہنماؤن کے کردار پر بھی نظر ثانی کر سکیں
ReplyDeleteہمارے رہنماؤں نے کونسے دو سو چوراسی قتل کیے ہیں؟
Delete